ہاتھی کا بچہ
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک درذی اپنی دکان میں بیٹھا کپڑے سی رہا تھا کہ وہاں سے ایک ہاتھی کے بچے کا گزر ہوا ۔ درزی کو دیکھ کر اس نے اونچا اونچا شور مچانا شروع کر دیا۔
درزی سمجھ گیا کہ ہاتھی کا بچہ بھوکا ہے۔
درزی نے اسے کھانے کو روٹی کا ایک ٹکڑا دیا جسے ہاتھی کے بچے نے کھایا اور چلاگیا۔
اب ہر روز وہ ہاتھی کا بچہ وہاں
آتا اور وہ درزی اسے روٹی کا ٹکڑا کھا نے کا دیتا۔ یوں دن گزرتے چلے گئے۔ ایک دن جب ہاتھی کا بچہ درزی کی دکان پر پہنچا
تو دکان کو بند پایا۔ یہ دیکھ کر ہاتھی کا بچہ بہت پریشان ہوا کی آج اسے کھانے کو روٹی کا ٹکڑا کون دے گا۔
کچھ دیر وہاں انتظار کے بعد ہاتھی کے بچے نے درزی کے گھر جانے کا فیصلہ کیا
قریب کی ایک بستی میں درزی کا گھر
تھا چنانچہ ہاتھی کا بچہ پوچھتا پوچھاتا
درزی کے گھر پہنچا تو کیا دیکھا
درزی سخت بیماری کی حالت میں چارپائی پر پڑا
بخار اور درد کی وجہ سے کررا رہا ہے۔
وہ واپس مڑا اور قریب ہی ایک ڈاکٹر کی دکان پر پہنچ کر زور زور
سے چلانے لگا۔
ڈاکٹر سمجھ گیا ہاتھی کا بچہ اسے کچھ بتانا چاہتا
ہے۔
چنانچہ ڈاکٹر اپنا بیگ لے کر ہاتھی کے بچے کے پیچھےپیچھے چل دیا اور کچھ ہی دیر کے بعددونوں درزی کے گھر پر پہنچ گئے ۔
درزی کو بستر پر بیمار پڑا دیکھ
کر ڈاکٹر سارا ماجرہ سمجھ گیا اور درزی کو
کچھ دوائیں دیں جس سے اسے کچھ آفاقہ ہوا۔
درزی کی طبعیت سمبھلنے پر ڈاکٹر
نے اسے سارا وقعہ سنایا
جسے سن کر درزی بہت خوش ہوا اور اس
نے ہاتھی کے بچے کو پاس بلایا اور اسے پیار کیا اور اللہ کا شکر بھی ادا کیا جس نے
ہاتھی کے بچے کو اس کے لیے مسیحہ بنا کر بھیجا۔
نتیجہ: سچ ہے احسان کا بدلہ احسان اوربھلائی کی شکل میں ہی ملتا ہے۔

Comments
Post a Comment